Breaking news

میدانِ کربلا اور اِمام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے گستاخوں کی عبرت ناک موت

 



میدانِ کربلا اور اِمام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے گستاخوں کی عبرت ناک موت

یومِ عاشورہ محرم الحرام 



گھوڑا اور گستاخ حسین


امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یوم عاشورا یعنی بروز جمعہ المبارک ۱۰ محرم الحرام ٦١ ہجری کو یزیدیوں پر اتمام محبت کرنے کیلئے جس وقت میدان اِتْمامِ حُجَّت (سمجھانے کی آخری کوشش) کرنے کے لئے جِس وقت میدانِ کربلا میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اُس وقت آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے مظلوم قافلے کے خیموں کی حفاظت کیلئے خندق ( گہری کھدی ہوئی زمین جو شہر، مکان قلعے وغیرہ کے چاروں طرف حفاظت کے لیے یا فوجیوں کے دشمن کی نظر سے پوشیدہ رہنے کی غرض سے کھودی گئی ہو) میں روشن کردہ آگ کی طرف دیکھ کر ایک بد زبان یزیدی (مالک بن عروہ) اس طرح بکواس کرنے لگا "

 اے حسین رضی اللہ تعالی عنہ تم نے وہاں کی آگ سے پہلے یہیں آگ لگا دی !



 حضرت سید نا امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: 

كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ الله

 یعنی "اے دشمن خدا تو جھوٹا ہے، کیا تجھے یہ گمان ہے کہ معاذ اللہ عزوجل میں دوزخ میں جاؤں گا!" 

امامِ حسین رضی اللہ تعال عنہ کے قافلے کے ایک جاں نثار جوان حضرت سید نا مسلم بن عوسجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے اُس منہ پھٹ بدلگام کے منہ پر تیر مارنے کی اجازت طلب کی ۔ حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالی تری نے یہ فرما کر اجازت دینے سے انکار کیا کہ ہماری طرف سے حملے کا آغاز نہیں ھونا چاہئے. پھر اِمام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کر کے عرض کی ،
اے ربّ قهار عزوجل اس نا بَکار ( بد بخت) کو عذاب نار ( جہنم کا عذاب) سے قبل بھی اس دنیا میں آگ کے عذاب میں مبتلاء فرما –


 فوراً دعا مستجاب (قبول) ہوئی اور اس گھوڑے کا پاؤں زمین کے ایک سوراخ پر پڑا جس سے گھوڑے کو جھٹکا لگا اور بے ادب و گستاخ یزیدی گھوڑے سے گرا، اُس کا پاؤں رکاب (گھوڑے کے زین میں لٹکا ہوا لوہے کا کمان حلقہ جس میں پیر ڈال کر گھوڑے پر چڑھتے ہیں ) میں اُلجھا اور گھوڑا اُسے گھسیٹتے ہوئے دوڑا اور آگ کی خَنْدَق میں ڈال دیا یوں وہ بد نصیب آگ میں جل کر بھسم ہو گیا.


امام حسین عالی مقام رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے سجدہ شکر ادا کیا، اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور عرض کی: 
یا اللہ عزوجل تیرا شکر ہے کہ تو نے آل رسول کے گستاخ کو سزادی"

 (سوائح کربلا (۸۸)

سیاہ بچھو اور گستاخ حسین

ناگاہ ایک سیاہ بچھو


سیاہ بچھو اور گستاخ حسین

گستاخ و بد لگام یزیدی کا بھیانک انجام دیکھ کر بھی بجائے عبرت حاصل کرنے کے اس کو ایک اتفاقی موت سمجھ کر ایک بے باک یزیدی نے بکا :

آپ کو اللہ عزوجل کے رسول اللّٰہ صلی علیہ والہ وسلم سے کیا نسبت؟


 یہ سن کر قلب امام(اِمام حسین کے دِل) کو سخت ایذاء (تکلیف) پہنچی اور تڑپ کر دُعاء مانگی !

" اے رب جبار عزوجل اس بد گفتار کو اپنے عذاب میں گرفتار فرما.


 دعا کا اثر فوراَ ظاہر ہوا ، اس بکواسی کو ایک دم قضائے حاجت ( پيشاب اور پاخانہ ) کی ضرورت پیش آئی، فوراً گھوڑے سے اُتر کر ایک طرف کو بھاگا اور برہنہ (نن٘گا) ہو کر بیٹھا ، ناگاہ ایک سیاہ بچھو نے ڈنگ مارا نجاست آلودہ (گندگی سے بھرا) تڑپتا ہوا ادھر اُدھربھاگا، نہایت ہی ذلت کے ساتھ اپنے لشکر کے ساتھیوں کے سامنے اس بد زبان کی جان نکلی۔ مگران سنگ دلوں اور بے شرموں کو غیرت نہ ہوئی اس واقعہ کو بھی ان لوگوں نے حادثہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔

ایضاً (الناص (۸)

دریائے فرات اور پیاسے یزیدی کی موت

موجیں مارتا دریائے فرات 


گستاخ حسین پیاسا مرا

یزیدی فوج کا ایک سخت دل مزنی شخص امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے سامنے آکر یوں بکنے لگا:

 ”دیکھو تو سہی دریائے فرات کیسا موجیں مار رہا ہے"


 خُدا عزوجل کی قسم!


تمہیں اس کا ایک قطرہ بھی نہ ملے گا اور تم یوں ہی پیاسے ہلاک ہو جاؤ گے "۔ امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی ،

اللهم آمِنْهُ عَطَشَانًا

  يعنی "یا الله عز وجل اس کو پیاسا مار"


 امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہ کے دُعا مانگتے ہی اُس بے حیاء مزنی کا گھوڑا ابدک کر دوڑا، مزنی پکڑنے کیلئے اس کے پیچھے بھاگا، پیاس کا غلبہ ہوا، اس شدّت کی پیاس لگی کہ العطش العطش ! یعنی ہائے پیاس ،ہائے پیاس ،پکارتا تھا مگر پانی جب اس کے منہ سے لگاتے تھے تو ایک قطرہ بھی پی نہ سکتا تھا یہاں تک کہ اسی شدتِ پیاس میں تڑپ تڑپ کر مر گیا۔

(سوانح کربلا ص ۹۰)


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے